بریکنگ نیوز
پاکستانی چاول کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے، صدر آذربائیجان قطر: دوحہ کے قریب زیر تعمیر عمارت میں آگ لگ گئی بھارت میں ہندو لڑکی کے ساتھ سفر کرنے والے مسلمان لڑکے پر تشدد بھارت، چاندنی چوک کی مارکیٹ میں خوفناک آتشزدگی، تین عمارتیں گر گئیں ’باکو‘ کی توہین کیوں کی، آذربائیجان نے آرمینیا سے مذاکرات منسوخ کر دیئے مسجد نبویﷺ کے صحن میں بچی کی ولادت انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں مسلم نوجوان کا قتل، راجھستان میں حالات کشیدہ گوداموں میں رکھی 500 کلو چرس چوہوں نے کھا لی، بھارتی پولیس کا الزام نئی دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں خواتین کے داخلے پر عائد پابندی ختم چین میں رواں ہفتے آتشزدگی کا دوسرا بڑا واقعہ، 10 افراد ہلاک انڈونیشیا، زلزلے کے دو دن بعد ملبے سے زندہ بچے کو نکال لیا گیا چین، سخت پابندیوں کے باوجود ملک بھر میں کورونا کے ریکارڈ کیسز انور ابراہیم نے ملائیشیا کے وزیر اعظم کا حلف اٹھا لیا سعودی عرب: جدہ میں طوفانی بارش سے صحرائی وادیاں زیر آب آگئیں امریکی گلوکار ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی بحالی پر سراپا احتجاج سعودی عرب، نور فیسٹیول کا اختتام، چھ گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم جنوبی افریقہ، جرائم کی شرح میں خطرناک اضافہ، تین ماہ 7 ہزار قتل برسلز میں کشمیر ای یو ویک کی تقریبات ختم امریکہ، شاپنگ مال میں شہریوں پر گولیوں کی برسات، 6 افراد ہلاک وہیل نما کارگو جہاز کی پہلی مرتبہ ایشیا میں لینڈنگ، شہری حیرت زدہ یورپی پارلیمنٹ نے روس کو دہشت گردی کی سرپرست ریاست قرار دے دیا آئی فون کی سب سے بڑی فیکٹری کے ملازمین کا احتجاج، ویڈیو وائرل سال 2023 میں کون سی بڑی تباہی ہوگی؟ دنیا کے بڑے سانحات کی درست پیشگوئی کرنے والی ماہر نجومی نے خبردا... رواں سال ایلون مسک کی دولت میں بڑی کمی مقبوضہ کشمیر؛ بانڈی پورہ سے خاتون سمیت چار کشمیری گرفتار

روس نے برف توڑنے والا بحری جہاز سمندر میں اتار دیا

روس نے توانائی کی منڈیوں کے لیے ایک نئے آئس بریکر بحری جہاز کو سمندر میں اتار دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے نیوکلیئر پاور سے چلنے والے ایک نئے آئس بریکر بحری جہاز کو سمندر میں اتارنے کی تقریب میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

یہ بحری جہاز روس کو آرکٹیکا کو ترقی دینے اور یوکرین پر پابندیوں کے درمیان توانائی کی نئی منڈیوں کی تلاش میں مدد دے گا۔

ولادیمیر پیوٹن نے ویڈیو لنک کے ذریعے یاکوتیا نامی آئس بریکر بحری جہاز کو سمندر میں اتارنے کی تقریب سے خطاب کیا جو سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد کی گئی تھی۔

روسی صدر نے کہا کہ یاکوتیا نامی یہ بحری جہاز روس کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل  ہے۔

واضح رہے کہ یاکوتیا نامی یہ بحری جہاز آرکٹیکا کی سمندری برف کو راستے سے ہٹانے کا کام کرے گا جو جوہری طاقت سے چلتا ہے۔

کریملن کے سربراہ نے روس کی معیشت اور پیداوار میں موجودہ مشکلات کے باوجود یوکرین میں ماسکو کے حملے پر مغربی پابندیوں کے واضح حوالے سے اپنے ملک کے جوہری بیڑے کو تیار کرنے کا عزم کیا۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے جوہری آئس بریکر بیڑے کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔

صدر پیوٹن نے کہا کہ یورال نامی بحری جہاز کے دسمبر میں آپریشنل ہونے کی امید ہے، جبکہ یاکوتیا 2024 کے آخر میں بیڑے میں شامل ہو جائے گا۔

یہ دونوں بحری جہاز شمال بعید میں انتہائی سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، ان کی لمبائی 173 میٹر (568 فٹ) ہے اور یہ 2.8 میٹر موٹی تک برف کو توڑ سکتے ہیں۔

روسی رہنما نے کہا کہ یہ جہاز ماسکو کی ایک عظیم آرکٹک طاقت کے طور پر روس کی حیثیت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

انہوں نے ایک بار پھر نام نہاد شمالی بحری روٹ کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جو بحری جہازوں کو روایتی سوئز نہر کے مقابلے میں صرف 15 دن تک ایشیائی بندرگاہوں تک تیزی سے رسائی فراہم کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ مشرقی آرکٹک میں موسم سرما میں بحری جہازوں کی آمدورفت نومبر میں بند ہو جاتی ہے، لیکن ماسکو کو امید ہے کہ برف توڑنے والے بحری جہاز یورال اور یاکوتیا اس راستے کو قابل استعمال بنانے میں مدد کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں